میسورو31؍مارچ (ایس او نیوز) بی جے پی کے صدر امیت شاہ کو میسورومیں دلت سماج سے رابطے کی کوشش کافی مہنگی پڑی کیونکہ ووٹوں کے جال میں دلتوں کو پھانسنے کے لئے پہنچے امیت شاہ کے جلسے میں اننت کمار ہیگڈے کو لے کر زبردست ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔
میسورو میں اننت کمار ہی کی اشتعال انگیز زبان بولنے والے ایم پی پرتاپ سنہا اور دیگر بی جے پی کے دیگر ٹاپ لیڈروں کی موجودگی میں دلت سماج کے ذمہ داروں کا اہم اجلاس منعقد کیاگیاتھاجس سے بی جے پی صدر امیت شاہ کررہے تھے، مگر اس دوران سوال وجواب اور تو تو میں میں شروع ہوگئی۔کہا جاتا ہے کہ دلتوں کی طرف سے امیت شاہ کو ایک سو سوالات پر مبنی تحریر دی گئی تھی اور جوابات مانگے گئے تھے۔جس میں اننت کمار ہیگڈے کی جانب سے حال ہی میں دئے گئے بیانات جیسے دلتوں کو بھونکنے والے کُتّے کہنا، دیش کا دستو ر بدلنے کی بات کرنا وغیرہ شامل تھے۔ لیکن امیت شاہ نے صرف 6منتخب سوالات کا جواب دیا اور اننت کمار کے بیانات کے بارے میں صرف اتنا کہا کہ ان بیانات سے ان کا یا پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس پر دلت نمائندے بھڑک گئے اورامیت شاہ اور دیگر لیڈروں کی طرف سے سمجھانے بجھانے کی لاکھ کوشش کے باوجود اجلاس ایک ہنگامے میں بدل گیا۔دلت لیڈروں نے نعرے بازی کرتے ہوئے پوچھا کہ مرکزی سرکار نے اپنے وزیر کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا۔اس موقع پر پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مشتعل اور ہنگامے پر آمادہ دلت لیڈروں کو ہال سے باہر نکال لے گئی۔اس کے بعد امیت شاہ نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے مودی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی دلتوں کے مفاد والی کئی ایک اسکیمو ں اور کارناموں پر روشنی ڈالی۔
ایک میٹنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ کی زبان جو پھسل گئی تھی اور انہوں نے سدارامیا کی جگہ پر اپنے ہی متوقع وزیراعلیٰ ایڈی یورپا کو کرپشن میں نمبر ایک کہا تھا، اس پر خفت مٹاتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی، مگر امید ہے کہ ووٹرس اس مرتبہ غلطی نہیں کریں گے۔